105

گالی دینا صرف بدزبانی نہیں بلکہ سائنس کے مطابق فائدہ مند بھی ہے

کبھی کبھی جب آپ کا پیر اچانک فرش یا بستر سے ٹکرا جائے اور فوراً منہ سے کوئی گالی نکل جائے، تو یہ محض بدزبانی نہیں بلکہ انسانی جسم کا ایک فطری حفاظتی ریفلکس ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ ردعمل جسم اور دماغ کو درد اور صدمے سے محفوظ رکھنے کے لیے ارتقا پذیر ہوا ہے۔

تحقیقات کے مطابق درست وقت پر دی گئی گالی جسم میں درد کو کم کرنے، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے اور تناؤ سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ کوئی اخلاقی کمی نہیں بلکہ ایک قدرتی حفاظتی ردعمل ہے جو شعوری بولنے سے کئی درجے نیچے پیدا ہوتا ہے۔

عام زبان زیادہ تر دماغ کے سوچنے والے حصے میں بنتی ہے، لیکن گالی دینے میں جذبات، یادداشت اور حفاظتی ردعمل کا نظام یعنی لیمبک سسٹم متحرک ہوتا ہے۔ اس عمل میں ایمیگڈالا (جذباتی الارم) اور بیسل گینگلیا (حرکات اور خودکار ردعمل) شامل ہیں، جو فوری سگنل ریڑھ کی ہڈی تک بھیجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گالی اتنی تیز اور فوری نکلتی ہے۔

گالی دینے سے جسم میں ایڈریلن، اینڈورفنز اور اینکیفالنز خارج ہوتے ہیں جو درد کو کم کرتے اور ہلکی تسکین کا احساس دلاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے، پٹھے سخت ہوجاتے ہیں اور جلد میں پسینے کی چھوٹی بوندیں نکلتی ہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ وہ لوگ جو کبھی کبھار گالی دیتے ہیں، سخت سرد پانی میں اپنے ہاتھ زیادہ دیر رکھ سکتے ہیں یا جسمانی مشقوں میں زیادہ طاقت پیدا کر سکتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ گالی دینا صرف ذہنی ریلیف نہیں بلکہ جسمانی ردعمل بھی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اچانک صدمے یا شدید تناؤ کے دوران گالی دینا جسم کو اعصابی دباؤ سے آزاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ توانائی خارج نہ کی جائے تو اعصاب زیادہ حساس رہتے ہیں، جس سے بے چینی، نیند کی مشکلات اور دل پر اضافی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مختصراً، گالی دینا ایک قدیم حفاظتی ریفلکس ہے جو انسانی بقا کے لیے ارتقا پذیر ہوا۔ صحیح وقت پر یہ دماغ، دل اور جسم کو متحرک کرکے درد اور تناؤ سے نجات دلاتا اور ہمارے اندرونی نظام کو توازن میں رکھتا ہے۔