انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو 72 ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر مضبوط رہی۔
متعدد عوامل جیسے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں موجود 1 ارب ڈالر کا فوجی فاؤنڈیشن ایکویٹی میں تبدیل ہونا، پاکستان کی دفاعی برآمدات کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچنا اور عالمی سطح پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں 19 فیصد اور 20 فیصد کمی، روپے کی مضبوطی کے محرک بنے۔
معیشت میں اصلاحات بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی اور ذرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں مسلسل اضافہ بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھا رہے ہیں۔ جمعہ کو ایک موقع پر ڈالر کی قدر 22 پیسے کمی کے ساتھ 279 روپے 90 پیسے تک آگئی تھی، تاہم کاروبار کے اختتام پر ڈالر 280 روپے 11 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر بغیر کسی تبدیلی کے 281 روپے 15 پیسے پر مستحکم رہا۔ مزید یہ کہ حکومت کو سکوک کے اجراء سے 2 کھرب روپے کی آمدنی، ریکوڈک منصوبے میں غیرملکی سرمایہ کاری اور دیگر ریاستی اداروں کی نجکاری کے اقدامات بھی زرمبادلہ کی مارکیٹ پر مثبت اثر ڈال رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مضبوطی اور ڈالر کی کمی ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا خبر ہے اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہو رہا ہے۔


.jpg)




