78

ماہرین کی 10 آسان تجاویز: سردیوں میں صحت مند اور توانائی سے بھرپور رہیں

سرد ہواؤں اور کم درجۂ حرارت کے ساتھ موسمِ سرما خوشگوار ہونے کے ساتھ صحت کے لیے بھی کئی چیلنجز لے کر آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چند سادہ تدابیر اپنا کر اس موسم کو صحت مند اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں متوازن غذا سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روزانہ پھل، سبزیاں، دالیں، انڈے، مچھلی اور صحت مند چکنائی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں، جبکہ وٹامن سی، ڈی اور زنک پر مشتمل غذائیں موسمِ سرما کی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

سرد موسم میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا بھی ضروری ہے۔ پانی پینا، ہربل چائے، سوپ اور یخنی نہ صرف سیال کی کمی پوری کرتے ہیں بلکہ جسم کو حرارت بھی فراہم کرتے ہیں۔ نیند کو ترجیح دینا بھی سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ سات سے نو گھنٹے کی نیند توانائی بحال کرتی ہے اور قوتِ مدافعت کو بہتر بناتی ہے، جبکہ سونے سے پہلے موبائل یا اسکرین کے استعمال میں کمی نیند کے معیار کو بڑھاتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کو ترک نہ کرنا بھی ضروری ہے۔ گھر میں یوگا، ہلکی ورزش، اسٹریچنگ یا رقص جسم کو متحرک رکھنے کے ساتھ موڈ بہتر بنانے میں مددگار ہیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بھی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بار بار ہاتھ دھونا، سینیٹائزر کا استعمال اور چہرے کو غیر ضروری طور پر چھونے سے جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامن ڈی اور زنک سپلیمنٹس ڈاکٹر کے مشورے سے لیے جا سکتے ہیں، جبکہ مناسب گرم لباس پہننا جسم کو سردی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ ماہرین ذہنی صحت پر بھی زور دیتے ہیں کیونکہ کم دھوپ اور مختصر دنوں کے باعث بعض افراد میں اداسی یا ڈپریشن پیدا ہو سکتا ہے۔ مراقبہ، گہری سانس کی مشقیں، مثبت سرگرمیاں اور اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سماجی رابطے برقرار رکھنا بھی سردیوں میں تنہائی اور اداسی سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے، چاہے ملاقات بالمشافہ ہو یا آن لائن۔ فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ویکسین لگوانا بھی نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں صحت کا خیال رکھنا مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ غذائیت، صفائی، ورزش اور ذہنی سکون پر توجہ دے کر نہ صرف بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ موسمِ سرما کو بھرپور انداز میں انجوائے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کسی کو مخصوص طبی مسئلہ درپیش ہو تو ذاتی رہنمائی کے لیے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔