اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ نورین نیازی نے اداروں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض بیانات کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نوٹس کا تحریری جواب وکیل کے ذریعے جمع کرا دیا۔
تحریری جواب میں نورین نیازی نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نوٹس میں الزامات اور متعلقہ قانونی دفعات واضح نہیں کی گئیں۔ انہوں نے این سی سی آئی اے سے شکایت اور الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
نورین نیازی نے اپنے جواب میں الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کریں گی، تاہم اپنے آئینی اور قانونی حقوق محفوظ رکھتی ہیں۔
دوسری جانب نورین نیازی کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ نے این سی سی آئی اے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں درج ایڈریس بھی درست نہیں تھا اور انہیں اس نوٹس کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔
فیصل ملک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شکایت موجود ہے تو اس کی مکمل کاپی فراہم کی جائے اور بتایا جائے کہ نورین نیازی کو کس قانون کے تحت طلب کیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق ابتدائی جواب جمع کرا دیا گیا ہے جبکہ مزید تفصیلات کے لیے چار ہفتوں کی مہلت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نورین نیازی اس وقت بیرون ملک موجود ہیں، اس لیے فوری طور پر پیشی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نورین نیازی تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتی ہیں اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہیے۔









