نئی دہلی: بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے بعد بھارت میں بھی طلبہ کے بڑے پیمانے پر احتجاج نے زور پکڑ لیا ہے۔ مختلف شہروں میں طلبہ اور نوجوان امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے واقعات اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سمیت ممبئی، بنگلورو، کولکتہ اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے شفاف تحقیقات اور اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کا آغاز امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے واقعات کے خلاف ہوا، تاہم اب یہ تحریک نوجوانوں میں بے روزگاری، احتساب اور نظامی اصلاحات جیسے وسیع تر مطالبات کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
بھارتی حکومت نے تعلیمی اصلاحات پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ مطالبات کی عملی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔




