اسلام آباد: آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم کے بعد وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایسوسی ایشن سے رابطہ کر لیا۔
صدر آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن عابد اللہ آفریدی کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ اہم ملاقات ہوگی، جس میں ایسوسی ایشن کے مطالبات پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم کر لیے تو آئندہ کا لائحہ عمل بھی اعلان کیا جائے گا، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں اگلے اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔
آئل ٹینکر مالکان کا مؤقف ہے کہ کمرشل لوڈنگ فوری ختم کی جائے، گزشتہ تین سال سے ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ موٹر وے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں اضافہ کیا جائے۔
عابد اللہ آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام کرنے پر مجبور ہوں گے۔









