10

زیرتعلیم افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے، اسد قیصر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو واپس بھیجنے سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے افغان طلبہ کو پاکستان سے واپس جانے کی ہدایت کی ہے، حالانکہ یہ طلبہ حکومتی پالیسی کے تحت میڈیکل کالجز میں داخل ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی اور انہیں اس مرحلے پر واپس بھیجنا ان کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

اسد قیصر نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ بہتر یا خراب ہوتے رہتے ہیں، تاہم ایسے اقدامات سے عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کو اخلاقی ذمہ داری کا بھی احساس ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پی ایم ڈی سی کا نوٹیفکیشن فوری واپس لیا جائے اور زیر تعلیم افغان طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔

اسد قیصر نے بتایا کہ وہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے، جبکہ فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں کیس دائر کیے جانے کی بھی اطلاع دی۔

انہوں نے کہا کہ افغان طلبہ کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کے حق میں ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

پی ایم ڈی سی کی ہدایات

پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو واپس جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کونسل نے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ سے متعلق انتظامی کارروائی مکمل کرنے اور مطلوبہ این او سی جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کو میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں داخلے، پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت نہیں ہوگی۔

پی ایم ڈی سی نے خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی کی جاسکتی ہے۔