4

پمز نرسری آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست کو ہونے والی آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ایئر کنڈیشننگ یونٹ کے قریب بجلی کا نقص قرار دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں زیر علاج 15 میں سے 14 انتہائی نگہداشت کے محتاج نومولود جاں بحق ہوئے۔

نیشنل فارنزک ایجنسی کے شواہد کی بنیاد پر اے سی یونٹ نمبر 2 کے قریب موجود برقی کیبل کو آگ لگنے کا سب سے ممکنہ مقام قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر غیر معمولی برقی حرارت، اضافی کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی دوسری برقی خرابی کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی، جس سے قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔

تخریب کاری یا آکسیجن لیک کے شواہد نہیں ملے

انکوائری رپورٹ میں آتشزدگی کو تخریب کاری قرار دینے، ایک سے زائد مقامات سے آگ لگنے، آئیسکو کی بیرونی بجلی کی خرابی یا آتشزدگی سے قبل آکسیجن لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا سبب قرار دینے کے شواہد دستیاب نہیں ہیں۔

کمیٹی کے مطابق برقی خرابی کی اصل نوعیت اور اسے روکنے میں ممکنہ ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

نرسری میں حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیاں

رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 انتہائی تشویشناک حالت میں نومولود زیر علاج تھے جبکہ یونٹ میں گنجائش صرف 10 بستروں کی تھی۔

متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، جس کے باعث انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل تھا۔

آگ لگنے کے وقت نرسری میں صرف 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسیں موجود تھیں جبکہ نومولود بچوں کے انخلا کیلئے وسائل بھی محدود تھے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کو بحفاظت نکالنے کیلئے کوئی منظور شدہ، تربیت یافتہ اور باقاعدگی سے مشق کیا جانے والا خصوصی طریقہ کار موجود نہیں تھا۔

فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا

انکوائری کمیٹی کے مطابق متاثرہ حصے میں خودکار دھویں کی نشاندہی کرنے والا نظام، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آتش گیر مواد اور ماحول میں آکسیجن کی زیادہ مقدار نے آگ اور دھویں کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔

کمیٹی کے مطابق 14 نومولود کسی ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی کے باعث جاں بحق نہیں ہوئے بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات یا تو موجود نہیں تھے، ناکافی تھے، بروقت فعال نہیں کیے گئے یا ان کی مؤثریت کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

عملے کے بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے کا تاثر مسترد

رپورٹ میں پمز نرسری کے فرنٹ لائن عملے کی جانب سے بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے کے عمومی تاثر کو مسترد کردیا گیا۔

انکوائری کمیٹی کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال انتہائی تیزی سے سنگین ہوئی اور صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر آگ واضح طور پر نظر آنے لگی، جس کے فوری بعد فرنٹ لائن عملے نے کارروائی شروع کردی۔

رپورٹ کے مطابق انچارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے نومولود بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بحفاظت نکالا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔

کمیٹی کے مطابق ڈاکٹر محمد عبدالرحمٰن بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود تھے۔

بیرونی امداد طلب کرنے میں 16 منٹ کی تاخیر

انکوائری رپورٹ میں آگ لگنے کے بعد بیرونی امداد طلب کرنے میں ہونے والی تاخیر کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر واضح ہوگئی تھی، تاہم سینٹرل ایمرجنسی سروسز کے ریکارڈ کے مطابق بیرونی مدد کیلئے اطلاع 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی۔

امدادی ٹیم 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ ہوئی اور 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچی۔

کمیٹی نے آگ ظاہر ہونے اور بیرونی امداد فعال کیے جانے کے درمیان تقریباً 16 منٹ کے وقفے کو ناقابل قبول قرار دیا۔

مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش

انکوائری کمیٹی نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ سے کسی مخصوص فرد کے خلاف جرم کا ارتکاب ثابت نہیں ہوتا، تاہم چار معاملات میں مزید فوجداری تحقیقات ضروری ہیں۔

ان معاملات میں اے سی یونٹ نمبر 2 کی تنصیب یا دیکھ بھال میں ممکنہ مجرمانہ غفلت، لازمی ہنگامی راستے میں رکاوٹ، سابقہ انتباہات کے باوجود کارروائی نہ کرنا اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ مجرمانہ تاخیر شامل ہیں۔

رپورٹ میں متعلقہ افراد کی ذمہ داری، خطرے سے آگاہی، غفلت کی نوعیت اور حفاظتی اقدامات کی ناکامی کا سانحے کے نتائج سے تعلق جانچنے کی سفارش کی گئی ہے۔