پشاور (نیوز ڈیسک) — خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کیے گئے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے "آئین پر حملہ" اور ایک "ڈرامہ" قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب قانونی حکومت موجود ہے، اور گورنر کی جانب سے اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا غیر آئینی اور جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اس مبینہ غیر آئینی اجلاس کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل سے باضابطہ رائے لی جائے گی، کیونکہ آئین میں وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا واضح اور آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا اس کا پرانا وطیرہ رہا ہے اور گورنر کی ایسی سرگرمیوں کا مقصد صرف صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت، پولیس اور عوام کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم دہرایا اور شکوہ کیا کہ وفاقی حکومت کا رویہ ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رہا ہے، جبکہ قبائلی اضلاع کو بھی آج تک مالی طور پر مکمل ضم نہیں کیا گیا۔









