سئول (نیوز ڈیسک) — جنوبی کوریا کے مالیاتی اداروں پر ہونے والے حالیہ سائبر حملوں کے بعد حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ممکنہ طور پر ہیکرز نے ان حملوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک ملک کے 7 مالیاتی ادارے ان حملوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔ حملہ آوروں نے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے بنیادی بینکنگ یا ادائیگی کے نظام کے برعکس نسبتاً کم محفوظ کاروباری معاونت اور ملازمین کے استعمال والے سسٹمز کو نشانہ بنایا، جہاں سے صارفین کا حساس ذاتی ڈیٹا چوری کیا گیا۔
صدر لی جے میونگ نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کو مزید تیز کرنے اور ممکنہ نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے 28 مشتبہ آئی پی ایڈریسز بھی متعلقہ مالیاتی اداروں کے ساتھ شیئر کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے حملہ آور سسٹمز کی کمزوریوں کو تلاش کرنے اور حملوں کے مختلف مراحل کو انتہائی تیزی سے خودکار بنا سکتے ہیں، جس سے روایتی دفاعی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر جنوبی کوریا کے مالیاتی حکام نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اپنے بیرونی طور پر قابلِ رسائی آئی ٹی سسٹمز، تصدیقی طریقۂ کار اور رسائی کے اختیارات (اکیس کنٹرولز) کی ہنگامی جانچ کا حکم دے دیا ہے، جبکہ وزیراعظم نے بھی خبردار کیا ہے کہ فِشنگ جیسے حملوں میں اے آئی کا استعمال مزید فراڈ اور ڈیٹا چوری کا باعث بن سکتا ہے۔









