خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی 50 ہزار مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے آج اگردلائل نہ بھی دیئے تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردوں گا، آج ہرصورت اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔
اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور اسدعمر کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، اسپیشل پروسیکیوٹر ذوالفقارنقوی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے پروسیکیوٹرز نے سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کردی، اور مؤقف پیش کیا کہ ہم نے سپریم کورٹ جانا ہے، سماعت میں وقفہ کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب یہ لوگ مصروف ہوتے ہیں تو ہم عدالت میں موجود ہوتے ہیں، اور جب یہ فری ہوں گے تو اس وقت ہم ہائیکورٹ میں مصروف ہوں گے۔
پروسیکیوٹر نے کہا کہ پروسیکویشن فری ہوگی تو جوڈیشل کمپلیکس پہنچ جائےگی۔
عدالت نے پروسیکیوٹر ذوالفقار کی سماعت میں وقفے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی وکلا کو درخواست ضمانت پر دلائل دینے کی ہدایت جاری کردی، اور ضمانتوں کی درخواستوں پر دلائل کیلئے 10بج کر 15 منٹ کا وقت مقرر کردیا۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے آج اگر دلائل نہ بھی دیئے تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردوں گا، آج ہر صورت اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔
پروسیکوشن ذوالفقار نقوی نے عدالت سے کہا کہ ملزم شامل تفتیش ہوتے ہیں، تفتیشی کسی کے پیچھے نہیں جاتے، یہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے، اگر یہ شامل تفتیش ہوتے تو ہوسکتا ہے یہ گناہ گار قرار دئیے جاتے۔
عدالت نے پروسیکوشن سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موقع تھا تو آپ نے یہ کیوں نہیں کیا۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آر میں تو ان کا نام بھی واضح نہیں ہے، اسدعمر کی ضمانت کو الگ اور باقی 2 کا الگ فیصلہ کرنا ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل بابراعوان نے پروسیکوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بلائے تو میں آجاؤں گا۔
کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں نامزد پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کی ضمانت منظور کرلی۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اسد عمر کی ضمانت 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کی۔
گزشتہ روز کی سماعت
گزشتہ روز 13 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی، اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سے اٹک جیل پہنچی۔
عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھے۔
عدالت نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔
سائفر معاملہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ مارچ 2022 میں ایک جلسے کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جیب سے خط نکال کر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ان کی بیرونی پالیسی کے سبب ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ تھی اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے بیرون ملک سے فنڈز بھیجے گئے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا جس میں انہوں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔
سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔









