بھارت کے ریاست جھارکھنڈ میں ایک انوکھے کیس میں عدالت نے مرکزی ملزم کو منشیات اسمگلنگ کے مقدمے سے بری کر دیا، بعد ازاں پولیس کے شواہد کو سنبھالنے میں سنگین کوتاہیوں پر سخت تنقید کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ 2022 کا ہے، جب پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک گاڑی کو روکا اور اس میں چھپائی گئی تقریباً 200 کلو گرام چرس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ پاکستانی روپے بتائی گئی تھی۔
تاہم ٹرائل کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ضبط شدہ چرس مبینہ طور پر گودام میں چوہوں نے کھا لی، اور اسے بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان کیس کے پورے طریقۂ کار پر شکوک پیدا کرتا ہے۔ جج نے پولیس گواہوں کے بیانات میں تضادات بھی نمایاں کیے، جن میں گاڑی روکنے کی درست جگہ و وقت، ملزم کی گرفتاری، اور مبینہ ساتھیوں کے فرار کے بارے میں بنیادی معلومات شامل تھیں۔
مزید برآں، عدالت نے نوٹ کیا کہ اس بڑی مقدار میں چرس ضبط کرنے کے باوجود کسی آزاد شہری گواہ کو شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ ملزم اور گاڑی کے درمیان تعلق ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جب کوئی مادی ثبوت باقی نہ رہے اور شواہد کی تحویل کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہو، تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔ یوں عدالت نے مرکزی ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔









