10

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے دو مختلف واقعات، ٹریفک پولیس کا ایک اور کسٹم کے 4 اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان (نیوز ڈیسک) — خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے یکے بعد دیگرے دو دلخراش حملوں کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کا ایک کانسٹیبل اور کسٹم کے چار اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ صوبے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں یہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران ٹریفک پولیس موبائل پر حملے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں واقع مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم دہشتگردوں نے ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کے کانسٹیبل و ڈرائیور محمد حبیب موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان خان شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر ریسکیو ٹیم کے ذریعے ٹراما سینٹر ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔

دوسرا واقعہ تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب پیش آیا، جہاں دہشتگردوں نے کسٹم اہلکاروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کسٹم کے 4 اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ شہداء کی لاشوں کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر کے پولیس نے شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 28 ستمبر کو ٹانک میں بھی ٹریفک پولیس موبائل پر حملے میں 3 اہلکار شہید ہو چکے ہیں جبکہ ستمبر کے دوران کوہاٹ، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں خودکش حملوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔