بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے دوران راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے مختصر حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا۔ احتجاجی مارچ الیکشن کمیشن کے خلاف تھا، جہاں اپوزیشن ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیا، تاہم پولیس نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ راہول گاندھی مبینہ طور پر پولیس بیریئر پر چڑھ گئے، جس کے بعد انہیں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرِ ثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور اس سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کررہی ہیں۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں دانستہ بے ضابطگیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نظرِ ثانی کے عمل کو انتخابی فہرستوں کی درستگی کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔
احتجاج کے دوران راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی مختصر حراست کے بعد انہیں رہا کردیا گیا، جبکہ نئی دہلی میں سیکیورٹی سخت رہی اور مارچ کے راستوں پر بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے۔




