اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — عالمی بینک نے پاکستان سمیت خطے کی معیشت کا نیا منظرنامہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں معاشی ترقی (جی ڈی پی گروتھ) کی شرح 3.8 فیصد، جب کہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی کس حقیقی جی ڈی پی گروتھ محض 2.2 فیصد رہے گی، جبکہ ملک کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.5 فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0.8 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق خطے میں یومیہ 3 ڈالر (تقریباً 840 روپے) سے کم آمدنی والے افراد کو غربت کا شکار مانا گیا ہے، اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی خطے کی مجموعی آبادی میں 48 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ، سخت مالیاتی پالیسیاں، مشکل فیصلے، کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، روپے کی قدر میں گراوٹ اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات رہیں۔ عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگے ایندھن، بڑھتی مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے، اور طویل مدتی ترقی کا حصول صرف تیل کے انحصار کو کم کرنے، نئی ٹیکنالوجی کے فروغ اور معیشت کو زیادہ لچکدار بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔









