اسلام آباد / ایبٹ آباد (نیوز ڈیسک) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی جانے والی 'مشروط' مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی مذاکرات سے انکاری نہیں ہے، لیکن بات چیت "غیر مشروط" ہونی چاہیے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر اور بعد میں ایبٹ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں شرائط رکھ کر بات چیت نہیں کی جاتی، اور اگر حکومت مطالبات تسلیم کر لے تو لانگ مارچ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ بڑا دل دکھاتے ہوئے دھمکیاں دینے کے بجائے پی ٹی آئی کو گلے لگائیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ پشاور سے ہوتا ہوا خیبر اور پھر اسلام آباد پہنچے گا، اور مارچ کے دوران ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے حالات انتہائی گھمبیر ہیں اور صوبہ کسی غیر آئینی اقدام یا گورنر راج کا متحمل نہیں ہو سکتا، جبکہ گورنر کی جانب سے اجلاس طلب کرنا غیر آئینی اقدام تھا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پارٹی جلد ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائے گی جس میں شرکت کے لیے اے این پی کے صدر ایمل ولی خان کو بھی دعوت دی جائے گی۔ یاد رہے کہ 2 اور 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف گامزن ہے۔









